حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مولانا عقیل رضا ترابی، سربراہ مدرسہ بنت الہدیٰ رجسٹرڈ ہریانہ نے بتایا کہ مکتب حیدریہ سید چھپرہ اور مکاتبِ حسینیہ ضبطی چھپرہ ضلع کرنال (ہریانہ) میں ادارہ تنظیم المکاتب لکھنؤ کے زیرِ اہتمام سالانہ امتحان 2026ء منعقد ہوا، جس میں 109 طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ تمام طلبہ و طالبات کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔
نتائج کے اعلان کے موقع پر جشنِ سعیدِ غدیر کا بھی شاندار اہتمام کیا گیا، جس میں علمائے کرام نے واقعۂ غدیر، فضائلِ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام اور ولایتِ اہلِ بیتؑ کے موضوعات پر اپنے خطابات میں روشنی ڈالی۔ اس موقع پر معزز مہمانانِ کرام نے کامیاب طلبہ و طالبات میں رپورٹ کارڈز اور انعامات تقسیم کیے۔

پروگرام کی صدارت عالی جناب مولانا سید نقی حیدر صاحب قبلہ، امامِ جمعہ و جماعت شیعہ جامع مسجد گنگوہ، نے فرمائی۔ اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ"واقعۂ غدیر محض ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ ولایتِ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے اعلانِ الٰہی کا وہ عظیم دن ہے جس نے امتِ مسلمہ کے لیے رہنمائی اور ہدایت کا دائمی معیار متعین کر دیا۔ غدیر کا پیغام اتحاد، اطاعتِ الٰہی اور تمسک بالولایت کا پیغام ہے جسے ہر دور میں زندہ رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ "مدرسہ بنت الہدیٰ رجسٹرڈ ہریانہ دینی تعلیم و تربیت کے میدان میں قابلِ قدر خدمات انجام دے رہا ہے۔ مومنین و مومنات کو چاہیے کہ وہ اس ادارے کی علمی، اخلاقی اور مالی سرپرستی کریں تاکہ آنے والی نسلوں کی دینی تربیت کا یہ مبارک سلسلہ مزید مستحکم اور مؤثر ہو سکے۔"

مہمانِ خصوصی حجۃ الاسلام والمسلمین عالی جناب مولانا سید رجب علی صاحب قبلہ نجفی نے اپنے جامع، مدلل اور فکر انگیز خطاب میں واقعۂ غدیر کی تاریخی، اعتقادی اور تربیتی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ غدیر درحقیقت دینِ اسلام کی تکمیل، نعمتِ الٰہی کے اتمام اور امتِ مسلمہ کی صحیح رہبری و قیادت کے اعلان کا عظیم دن ہے۔ اگر امتِ مسلمہ پیغامِ غدیر کو اس کی حقیقی روح کے ساتھ سمجھ لے تو امت کو درپیش بہت سے فکری اور عملی مسائل کا حل ممکن ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی تعلیمات سے وابستگی ہی دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہے اور نئی نسل کو سیرتِ اہلِ بیتؑ سے آشنا کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید فرمایا کہ دینی مراکز اور مکاتب ہی وہ مضبوط بنیاد ہیں جن کے ذریعے اسلامی اقدار، اخلاقِ محمدیؐ اور معارفِ اہلِ بیتؑ آئندہ نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں۔ اگر ہم اپنی اولاد کو دینی تعلیم سے آراستہ کریں گے تو ہمارا معاشرہ علمی، اخلاقی اور روحانی اعتبار سے مزید مستحکم اور باوقار ہوگا۔
اس موقع پر انہوں نے مدرسہ بنت الہدیٰ رجسٹرڈ ہریانہ کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اسے مومنین و مومنات کے لیے ایک گراں قدر دینی تحفہ قرار دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ ادارہ بچیوں کی دینی، اخلاقی اور تعلیمی تربیت میں نہایت اہم کردار ادا کر رہا ہے اور معاشرے میں دینی شعور کے فروغ کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔

انہوں نے والدین، بالخصوص خواتینِ مؤمنات پر زور دیا کہ وہ اپنی بیٹیوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے ایسے اداروں سے وابستہ کریں، کیونکہ ایک باکردار، باحجاب اور دیندار بیٹی نہ صرف ایک صالح خاندان بلکہ ایک مثالی معاشرے کی تعمیر میں بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
انہوں نے مومنین سے اپیل کی کہ وہ مدرسہ بنت الہدیٰ رجسٹرڈ کی ہر ممکن سرپرستی اور معاونت کریں تاکہ یہ علمی و تربیتی خدمات مزید وسعت اور استحکام کے ساتھ جاری رہ سکیں۔
اس جشنِ غدیر میں علمائے اہلِ سنت والجماعت نے بھی شرکت فرمائی جن میں مولانا محمد ارشد ضیاوی صاحب، مولانا محمد اسجد صاحب اور مولانا محمد ہارون کریمی رشیدی صاحب نمایاں تھے۔ علاوہ ازیں متعدد سماجی شخصیات نے بھی اپنی شرکت سے پروگرام کی رونق میں اضافہ کیا، جن میں جناب سید علی عباس پردھان، جناب سید علی رحمن نمبردار، جناب عزادار حسین صاحب (منتظم حیدریہ)، جناب سید شاہد حسین، جناب سید عزم عباس، ڈاکٹر کلوندر سنگھ، ڈاکٹر سید احتشام حیدر اور ڈاکٹر سید محمد حیدر شامل تھے۔
مہمانِ خصوصی حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید رجب علی نجفی، جناب سید شاہد حسین، جناب سید عزم عباس، ڈاکٹر کلوندر سنگھ، ڈاکٹر سید محمد حیدر اور ڈاکٹر سید احتشام حیدر نے ممتاز طلبہ و طالبات کو خصوصی انعامات کے طور پر 500 روپے فی طالب علم جبکہ تمام کامیاب طلبہ و طالبات کو 50 روپے بطورِ حوصلہ افزائی عطا کیے۔

اسی موقع پر مکتب حیدریہ سید چھپرہ کی جانب سے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ممتاز طلبہ و طالبات میں خصوصی ٹرافیاں، اسنادِ امتیاز اور رپورٹ کارڈز بھی تقسیم کیے گئے۔
پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کو ان کی علمی محنت، دینی شوق اور تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
اساتذۂ کرام اور سرپرستان نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ اعزازات دیگر طلبہ و طالبات کے لیے بھی علمی و اخلاقی میدان میں مزید محنت، ترقی اور کامیابی کا باعث بنیں گے۔ پروگرام میں مؤمنین کے ساتھ خواتین کی بھی کثیر تعداد نے شرکت کی۔









آپ کا تبصرہ